Posts

وتر کسے کہتے ہیں

Image
وتر کسے کہتے ہیں   جانتے ہو وتر میں ہم ہر روز الله سے ایک وعدہ کرتے ہیں اور وہ وعدہ بھی عبادت کی سب سے آخری ایک رکعت میں ہوتا ہے دعائے قنوت ایک عہد ہے الله سبحانہ و تعالی کے ساتھ ایک معاہدہ ہے ایک وعدہ ہے ۔ الّٰلھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ ۔۔۔ اے الله ! ہم صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔ وَنَسْتَغْفِرُکَ ۔۔۔ اور تیری مغفرت طلب کرتے ہیں ۔ وَنُؤْمِنُ بِکَ ۔۔۔ اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں ۔ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ ۔۔۔ اور تجھ پر ہی توکل کرتے ہیں ۔ وَنُثْنِیْ اِلَیْکَ الْخَیْر ۔۔۔ اور تیری اچھی تعریف کرتے ہیں ۔ وَنَشْکُرُکَ ۔۔۔ اور ہم تیرا شکر ادا کرتے ہیں ۔ ولا نَکْفُرُکَ ۔۔۔ اور ہم تیرا انکار نہیں کرتے ۔ وَنَخْلَعُ ۔۔۔ اور ہم الگ کرتے ہیں ۔ وَنَتْرُکَ مَنْ یّفْجُرُکَ ۔۔۔ اور ہم چھوڑ دیتے ہیں اس کو جو تیری نا فرمانی کرے ۔ اللھُمَّ ایّاکَ نَعْبُدُ ۔۔۔ اے الله ! ہم خاص تیری ہی عبادت کرتے ہیں ۔ وَلَکَ نُصَلّیْ ۔۔۔ اور تیرے لئے نماز پڑھتے ہیں ۔ وَنَسْجُدُ ۔۔۔ اور ہم تجھے سجدہ کرتے ہیں ۔ وَاِلَیْکَ نَسْعٰی ۔۔۔ اور ہم تیری طرف دوڑ کر آتے ہیں ۔ وَنَحْفِدُ ۔۔۔ اور ہم تیری خدمت میں حاضر ہوتے ہیں ۔...

نہ مندر میں صنم ہوتے

نہ مندر میں صنم ہوتے نہ مسجد میں خدا ہوتا ہمیں سے یہ تماشہ ہے نہ ہم ہوتے تو کیا ہوتا نہ ایسی منزلیں ہوتیں نہ ایسا راستہ ہوتا سنبھل کر ہم ذرا چلتے تو عالم زیر پا ہوتا گھٹا چھاتی ...

رب

تمھارا رب جس چیز کو تمھارے قریب کردے اس میں حکمت تلاش کرواور جس چیز کو دور کر دے اس پر صبر اختیار کرو،الله کے فیصلوں کو سمجهنا.انسان کی عقل سے بالاتر ہے مسکرائیےاچھا سوچئیے...

پاکیزہ دل

مقدس علم کا نزول اعلی دماغ پر نہیں بلکہ پاکیزہ دل پر ھوتا ہے جب الله چاھتا ہے کہ___ کسی بندے سے دوستی کرے تو اسکی زبان پر اپنے ذکر اور دل پر اپنی فکر کے دروازے کھول دیتا ھے!!

مایوسی

" انسان کی فطرت میں قدرت نے امید اور آس کی ڈور سے ہمیشہ بندھے رہنے کا ایک عجیب سا انتظام کر رکھا ہے- ایک ڈور ٹوٹتی ہے، تو وہ دوسری تھام لیتا ہے. دوسری ٹوٹتی ہے تو تیسری میرے رب نے مایوسی کو کفر کہا ہے امید کا سلسلہ نا ہوتا تو انسان مایوسی سے مرجاتا!!

زندگی

Image
‏ زندگی بہت مختصر ہے ــ سمجھ آتے آتے گزر جاتی ہے دل میں کوئی بات نہ رکھیں نہ جھگڑے طویل ہونے دیں معاف کردیں .کیونکہ معاف کرنا "اللہ" کو پسند ہے. خوش رہیں ، خوشیاں بانٹیں "اللہ"ہمارے معاملات میں آسانیاں پیداکرے" آمین

Allah

Image
وہ   نیکیاں   دیکھ کرتھوڑی   دیتاہے وہ  تو   ان   کو   بھی دیتا   ہے جو اس کا نام   تک   نہیں لیتے اور ایسوں   کو بھی جوساری  عمر کسی کابھلا نہیں سوچتے وہ    اگر   نیکیوں کےحساب   سےتول کر دینےلگ پڑتاتو کسی کوکچھ بھی   نہ ملتامخلوق   بھلاخالق  کوکیسےکچھ لوٹا سکتی ہے 

Two Lines

Image
‏ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﻼ ﺩﻭﮞ ، ﺗُﻮ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮞ؟ ﺗُﻮ ﺟﺎﻥِ ﺗﻤﺎﺷﺎ ﮨﮯ _______ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻮِ ﺗﻤﺎﺷﺎ ﮨﻮﮞ

نا محرم کی محبت

Image
‏نامحرم کی محبت آپکے ایمان کی تجارت کا نام ہے جس میں آپ روز تھوڑا ایمان بیچ کر بدلے میں و ہ محبت خریدتے ہیں

تو امیرِ حرم، میں فقیرِعجم

Image
تو امیرِ حرم، میں فقیرِعجم تیرے گن اور یہ لب، میں طلب ہی طلب تو عطا ہی عطا، میں خطا ہی خطا تو کجا من کجا، تو کجا من کجا...!!! تو ابد آفریں، میں ہوں دو چار پل تو یقیں میں گماں، میں سخن تُو عمل تو ہے معصومیت میں نری معصیت تو کرم میں خطا، تو کجا من کجا...!!! تو ہے احرامِ انوار باندھے ہوئے میں درودوں کی دستار باندھے ہوئے کعبۂ عشق تو، میں ترے چار سو تو اثر میں دعا، تو کجا من کجا...!!! تو حقیقت ہے میں صرف احساس ہوں تو سمندر، میں بھٹکی ہوئی پیاس ہوں میرا گھر خاک پر اور تری رہگزر سدرۃ المنتہیٰ، تو کجا من کجا...!!! میرا ہر سانس تو خوں نچوڑے مرا تیری رحمت مگر دل نہ توڑے مرا کاسۂ ذات ہوں، تیری خیرات ہوں تو سخی میں گدا، تو کجا من کجا...!!! ڈگمگاٰؤں جو حالات کے سامنے آئے تیرا تصور مجھے تھامنے میری خوش قسمتی، میں ترا اُمتی تو جزا میں رضا، تو کجا من کجا...!!! میرا ملبوس ہے پردہ پوشی تری مجھ کو تابِ سخن دے خموشی تری تو جلی میں خفی، تو اٹل میں نفی تو صلہ میں گلہ، تو کجا من کجا...!!! دوریاں سامنے سے جو ہٹنے لگیں جالیوں سے نگاہیں لپ...

KHUDA

Image
رات کے پچھلے پہر سب جہانوں کا خدا دے رہا تھا سدا کوئی پکارے مجھے میں سن رہا ہوں کوئی مانگے تو سہی جھولیاں بھر بھر کے دوں کوئی توبہ تو کرے معاف میں جھٹ سے کروں اور ہم نیند میں اس صدا سے بےخبر اس خدا سے بے خبر جنتوں کی چاہ میں خواب دیکھتے رہے

پروین شاکر

Image
عُمر کا بھروسہ کیا، پَل کا ساتھ ہوجائے ایک بار اکیلے میں، اُس سے بات ہوجائے دِل کی گُنگ سرشاری اُس کو جِیت لے، لیکن عرضِ حال کرنے میں احتیاط ہوجائے ایسا کیوں کہ جانے سے صرف ایک اِنساں کے ساری زندگانی ہی، بے ثبات ہوجائے یاد کرتا جائے دِل، اور کِھلتا جائے دِل اوس کی طرح کوئی پات پات ہوجائے سب چراغ گُل کرکے اُس کا ہاتھ تھاما تھا کیا قصور اُس کا، جو بَن میں رات ہوجائے ایک بار کھیلےتو، وہ مِری طرح اور پھر جِیت لے وہ ہر بازی مجھ کو مات ہوجائے رات ہو پڑاو کی پھر بھی جاگیے ورنہ آپ سوتے رہ جائیں، اور ہات ہوجائے

عشق..

Image
‏اک ع تھی پھر ش تھا کچھ آگ تھی،کچھ راکھ تھی اک دشت تھا، اک بحر تھا صحرا بھی تھا اور پیاس بھی پھر اک خلا بے انت سا،اک بند گلی سا راستہ ویرانیاں،تنہانیاں، پھر ق تھا پھر سارا منظر راکھ تھا سب خاک تھا۔۔۔عشق تھا۔۔۔بس عشق تھا!

قصص الانبياء

Image
جب دلوں پر زنگ لگ جاتا ہے تو روح بے چین و مضطرب ہوجاتی ہے پھر عمل صالح کے ساتھ دعا کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کہاجاتا ہے کہ دل کا زنگ دور کرنے کے لیے دعا کرنی چاہیے کہ اللّہ سبحانہ وتعالی کی محبت اور اس پر کامل ایمان نصیب ہوجائے ۔ قرآن پاک اور سیرت نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل کی توفیق مل جائے اور موت کی یاد اور روز محشر میں حساب کتاب پر مکمل یقین ہوجائے ۔ جب ہم دعا کرتے ہیں کہ الله سبحانہ وتعالی کی محبت اور کامل ایمان ہمیں نصیب ہوجائے تو پھر ہم الله تعالی کے عہد میں آجاتے ہیں ۔۔۔ جو بھی احکام ایمان لانے کے بعد ایک مسلمان کے لیے جاری ہوتے ہیں وہ سب ہم پر لاگو ہوجاتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ الله تعالی کی محبت ہمیں کیسے ملے گی ؟ الله کریم قرآن مجید میں فرماتے ہیں ۔ قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله ۔۔۔۔ فرما دیجیے اگر تم الله سے محبت کرتے ہو ( الله کی محبت مانگتے ہو ) تو میری پیروی کرو الله تم سے محبت کرے گا ۔ اسی میں قرآن پاک اور سیرت نبوی پر عمل کرنا شامل ہو جاتا ہے ۔۔۔۔ کیونکہ نبی آخر الزماں صلی الله علیہ وسلم چلتا پھرتا قرآن تھے ۔ آپ کا ہر عمل عین قرآن مجید کے مطابق تھا او...

وہ جو اک دعاِ سکون تھی میرے رخت میں

Image
وہ جو اک دعاِ سکون تھی میرے رخت میں ، وہی کھو گئی میں جدھر گیا میں جہاں رہا میرے ساتھ تھا وہی ایک سایہ مہرباں وہ جو ایک پارہ ابر تھا سر آسماں پس ہر گماں وہ جو ایک حرف یقین تھا میرے ہر سفر کا امین تھا وہ جو ایک باغ ارم نما ، سبھی موسموں میں ہرا رہا وہ اجڑ گیا وہ جو اک دُعا کا چراغ سا ، میرے راستوں میں جلا رہا وہ بکھر گیا میرے غم کو جڑ سے اُکھاڑھتا وہ جو ایک لمسِ عزیز تھا کسی کپکپاتے سے ہاتھ کا ، وہ نہیں رہا وہ جو آنکھ رہتی تھی جاگتی ، میرے نام پر وہ سو گئی وہ جو اک دعاِ سکون تھی میرے رخت میں ، وہی کھو گئی اے خدُائےِ واحد و لم یزل تیرے ایک حرف کے صید ہیں یہ زماں مکاں تیرے فیصلوں کے حضور میں نہ مجال ہے کسی عذر کی نہ کسی کو تابِ سوال ہے یہ جو زندگی کی متاء ہے تیری دین ہے تیرا مال ہے مجھے ہے تو اتنا ملال ہے کہ جب اُسکی ساعت آخری سرِ راہ تھی میں وہاں نہ تھا میرے راستوں سے نکل گئی وہ جو ایک جاہِ پناہ تھی میں وہاں نہ تھا سرِ شام غم مجھے ڈھونڈتی میری ماں کی بجھتی نگاہ تھی میں وہاں نہ تھا میرے چار سو ہے دُھواں دُھواں میرے خواب سے میری آنکھ تک یہ جو سیلِ اشک ہے...

عشق صوفیانہ

Image
ﺣﻀﺮﺕ ﺟﻨﯿﺪ ﺑﻐﺪﺍﺩﯼ ﺭﺡ ﮐﯽ ﺩﺭﻭﯾﺸﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﺼﯿﺤﺖ ۔۔۔۔ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﻓﻘﯿﺮ ﺑﻦ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﮐﮧ ﻧﮧ ﺩﻭ۔ ﻓﻘﯿﺮ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺍ ، ﺟﻮ ﺯﺍﺩ ﺭﺍﮦ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﺎﻉ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﮨﻮ ، ﺍﺻﻞ ﻓﻘﯿﺮ ﻭﮦ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﺮﺍﺩ ، ﻃﻠﺐ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﺮﺹ ﺳﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﻮ۔ ﻣﺨﻠﻮﻗﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﮐﻤﯿﻨﮧ ﺍﻭﺭ ﺭﺫﯾﻞ ﮨﮯ ، ﺟﻮ ﺩﺭﺣﻘﯿﻘﺖ ﺗﻮ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﻓﻘﯿﺮ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻟﯿﮑﻦ ﻟﻮﮒ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﺳﻤﺠﮭﯿﮟ - ﺍﻭﺭ ﻭﮦﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﻇﺎﮨﺮﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻋﺰﺕ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺒﻮﻟﯿﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﮮ - ﺟﻮ ﭼﯿﺰ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﻏﺎﺋﺐ ﮐﺮﮮ ﻭﮦ ﻋﺰﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺑﺪﺗﺮﯾﻦ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺫﻟﺖ ﮨﮯ - ﻣﺸﺎﺋﺦ ﺭﺣﻤﺗﮧ ﺍﻟﻠّﮧ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻣﺮﯾﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺻﻮﺭﺗﺤﺎﻝ ﺳﮯ ﻣﺘﻨﺒﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ - ﺣﻀﺮﺕ ﺟﻨﯿﺪ ﺑﻐﺪﺍﺩﯼ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻟﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﺩﺭﻭﯾﺸﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﺮﺗﮯﮨﻮﺋﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ، ﺍﮮ ﺩﺭﻭﯾﺸﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﺮﻭﮦ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮ ! ﺗﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠّﮧ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﺀ ﭘﺮ ﮨﯽ ﺗﻌﻈﯿﻢ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮ ، ﺟﺐ ﺗﻢ ﺍﻟﻠّﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﭘﻨﺎ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﻭ ، ﮐﮧ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺗﻌﻠﻖ ﮐﺎ ﻓﯽ ﺍﻟﻮﺍﻗﻊ ﮐﯿﺎ ﺣﺎﻝ ﮨﮯ۔ ﺑﺤﻮﺍﻟﮧ ﮐﺸﻒ ﺍﻟﻤﺤﺠﻮﺏ  

ایک سایہ مرا مسیحا تھا

Image
ایک سایہ مرا مسیحا تھا کون جانے وہ کون تھا کیا تھا وہ فقط صحن تک ہی آتی تھی میں بھی حجرے سے کم نکلتا تھا تجھ کو بھولا نہیں وہ شخص کہ جو تیری بانہوں میں بھی اکیلا تھا جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ وصل سے انتظار اچھا تھا بات تو دل شکن ہے پر یارو عقل سچی تھی عشق جھوٹا تھا اپنے معیار تک نہ پہنچا میں مجھ کو خود پر بڑا بھروسہ تھا جسم کی صاف گوئی کے با وصف   روح نے کتنا جھوٹ بولا تھا

نظم

Image
اک بوند برس ، اک اشک چھلک ، خاموش نظر ! کوئی بات تو کر ، دل دکھتا ہے ، تو میرے دل پر ہاتھ تو رکھ ، میں تیرے ہاتھ پہ دل رکھ دوں ، دل درد بھرا ، جو اس کو چھوئے ، یہ اس سے ملے ، اک لفظِ محبت بول ذرا ، میں سارے لفظ تجھے دے دوں ، دل درد سراب کو آب سے بھر ، تو میرے خواب پہ آنکھ تو دھر ، میں تیری آنکھ میں خواب بھروں ، خاموش محبت ! بات تو کر ، دل دکھتا ہے ۔۔۔!!!

عشق ِ حقیقی

عشق ِ حقیقی ہوس اور لمس کی لذت سے ماورا ایسا لامحدود جذبہ ہے کہ جس میں ہر سانس کے ساتھ محبوب ِ حقیقی کی تڑپ بڑھتی ہی چلی جاتی ہے جب انسان مجاز سے نکل کر حقیقت میں داخل ہوتا ہے تو ...

اعمال کی ظلمت میں توبہ کی ضیاء لے کر

وہ ایک مشہور زمانہ ڈاکو تھا جو ایک لڑکی سے محبت کر بیٹھا، ایک رات وہ اُس لڑکی سے ملنے کیلئے دیوار پھاند کر اسکے گھر میں داخل ہونا چاہ رہا تھا کہ یکا یک اسکے کانوں سے ایک خوش الح...